قائد اعظم کے آخری الفاظ لاالٰہ الاللہ محمد الرسول اللہ پڑھا اور آ نکھیں بند ہوگئیں

لاالٰہ الاللہ محمد الرسول اللہ پڑھا اور آ نکھیں بند ہوگئیں ۔۔قائد اعظم کے آخری الفاظ

ستمبر 1948 کو ڈاکٹر الٰہی بخش نے محترمہ فاطمہ جناح کو بتایا کہ اب محمد علی جناح کے بچنے کی کوئی

امید نہیں ، پھر بھی بےہوشی اور غنودگی کے عالم میں وہ بڑ بڑا رہے تھے: ’کشمیر۔۔۔ انھیں فیصلہ کرنے کا حق دو۔۔۔ آئین۔۔۔ میں اسے مکمل کروں گا۔۔۔ بہت جلد۔۔۔ مہاجرین۔۔۔ انھیں ہر ممکن۔۔۔ مدد دو۔۔۔ پاکستان۔۔۔‘مشہور صحافی عقیل عباس جعفری کی بی بی سی میں شائع ہوئی ایک رپورٹ میں انہوں نے تفصیل سے قائد کے 60 دنوں کا تفصیلی پوسٹ مارٹم کیا ہے ، جس میں بہت سی ایسی باتیں ہیں جن کی تحقیق اور تفتیش ہونی ضروری تھی لیکن اس کیس کو بھی دبا دیا گیا۔ ہم نے یہاں ان کی کی گئی تحقیق کے کچھ اقتباسات قارئین تک پہنچائے ہیں۔ جو مختلف کتب کا مجموعہ ہیں۔چوہدری محمد حسین چٹھہ نے اپنے ایک انٹرویو میں ضمیر احمد منیر کوبتایا کہ جب ڈاکٹر الٰہی بخش نے جناح کو بتایا کہ انھیں تب دق کا مرض لاحق ہے تو جناح نے جواب دیا: ’ڈاکٹر، یہ تو میں 12 برس سے جانتا ہوں،

میں نے اپنے مرض کو صرف اس لیے ظاہر نہیں کیا تھا کہ ہندو میری موت کا انتظار نہ کرنے لگیں۔‘مشہور کتاب ’فریڈم ایٹ مڈنائٹ‘ کے مصنّفین لیری کولنز اور ڈومینک لاپیئر نے بالکل درست لکھا ہے کہ: ’اگر اپریل 1947 میں ماؤنٹ بیٹن، جواہر لال نہرو یا مہاتما گاندھی میں سے کسی کو بھی اس غیر معمولی راز کا علم ہو جاتا جو بمبئی کے ایک مشہور طبیب ڈاکٹر جےاے ایل پٹیل کے دفاتر کی تجوری میں انتہائی حفاظت سے رکھا ہوا تھا، تو شاید ہندوستان کبھی تقسیم نہ ہوتا اور آج ایشیا کی تاریخ کا دھارا کسی اور رخ پر بہہ رہا ہوتا۔ یہ وہ راز تھا جس سے برطانوی سیکرٹ سروس بھی آشنا نہ تھی۔ یہ راز جناح کے پھیپھڑوں کی ایک ایکسرے فلم تھی، جس میں بانی پاکستان کے پھیپھڑوں پر ٹیبل ٹینس کی گیند کے برابر دو بڑے بڑے دھبے صاف نظر آ رہے تھے۔

ہر دھبے کے گرد ایک بالا سا تھا جس سے یہ بالکل واضح ہو جاتا تھا کہ تپ دق کا مرض جناح کے پھیپھڑوں پر کس قدر جارحانہ انداز میں حملہ آور ہوچکا ہے۔‘ڈاکٹر پٹیل نے جناح کی درخواست پر ان ایکس ریز کے بارے میں کبھی کسی کو کچھ نہ بتایا۔ لیکن انہوں نے قائد اعظم کو اس مرض میں صرف آرام کرنے کا مشورہ دیا تھا، لیکن قائد اعظم کے پاس وقت بہت کم اور کام زیادہ تھا، اس لئے اس راز کو راز ہی رہنے دیا گیا۔ اور اپنی عزیز از جان بہن فاطمہ جناح کو بھی اس سے آگاہ نہیں کیا تھا۔29 اگست 1948 کو ڈاکٹر الٰہی بخش نے جناح کا ایک مرتبہ پھر معائنہ کیا۔ وہ لکھتے ہیں: ’قائد اعظم کا معائنہ کرنے کے بعد میں نے یہ امید ظاہر کی کہ جس ریاست کو آپ وجود میں لائے ہیں اسے پوری طرح مستحکم اور استوار کرنے کے لیے بھی دیر تک زندہ رہیں۔ میرے وہم و گمان میں بھی نہ آیا کہ میرے جذبات سے وہ غمگین ہو جائیں گے۔ ان کے یہ الفاظ اور ان کا افسردہ اور یاس انگیز لہجہ میں کبھی نہیں بھول سکتا۔‘ جناح نے ڈاکٹر الٰہی بخش کو مخاطب کرکے کہا: ’آپ کو یاد ہے، جب آپ پہلی بار زیارت آئے تھے تو میں زندہ رہنا چاہتا تھا لیکن اب میرا مرنا جینا برابر ہے۔ڈاکٹر الٰہی بخش لکھتے ہیں کہ یہ الفاظ زبان سے ادا کرتے وقت ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔

ایک ایسے شخص کو آبدیدہ دیکھ کر، جسے جذبات سے یکسر عاری اور فولاد کی طرح سخت سمجھا جاتا تھا، ڈاکٹر الٰہی بخش دنگ رہ گئے۔ جناح اس وقت بتدریج روبہ صحت تھے، اس لیے جناح کی مضمحل طبیعت سے انھیں اور بھی حیرانی ہوئی۔ انھوں نے وجہ دریافت کی تو جناح نے فرمایا: ’میں اپنا کام پورا کرچکا ہوں۔‘یہی واقعہ فاطمہ جناح نے بھی تحریر کیا ہے، مگر قدرے مختلف الفاظ میں۔ وہ لکھتی ہیں: ’اگست کے آخری دنوں میں جناح پر اچانک مایوسی کا غلبہ ہو گیا۔ ایک دن میری آنکھوں میں غور سے دیکھتے ہوئے انہوں نے کہا ’فاطی۔۔۔ اب مجھے زندہ رہنے سے کوئی دلچسپی نہیں۔ میں جتنی جلد چلا جاؤں، اتنا ہی بہتر ہے۔‘’یہ بدشگونی کے الفاظ تھے۔ میں لرز اٹھی، جیسے میں نے بجلی کے ننگے تار کو چھو لیا ہو۔ پھر بھی میں نے صبر و ضبط سے کام لیا اور کہا: جن! آپ جلد ہی اچھے ہو جائیں گے۔ ڈاکٹروں کو پوری امید ہے۔‘ “میری یہ بات سن کر وہ مسکرائے۔ اس مسکراہٹ میں مرونی چھپی تھی۔ انھوں نے کہا: نہیں۔۔۔ اب میں زندہ رہنا نہیں چاہتا۔”قائد کا آخری دن:گیارہ ستمبر 1948 کو ان کو طیارے کے ذریعے کراچی پہنچایا گیا۔ ڈاکٹر مستری، نرس ڈنہم، نیول اے ڈی سی لیفٹیننٹ مظہر احمد اور جناح کے اسسٹنٹ پرائیویٹ سیکریٹری فرخ امین بھی اسی طیارے میں سوار تھے۔ طیارہ نے ان کو ماری پورائیرپورٹ پہنچادیا تھا، جناح کی ہدایت پر انھیں لینے کے لیے آنے والوں میں نہ حکومت کا کوئی اہم رکن موجود تھا، نہ ہی ضلعی انتظامیہ ان کی آمد سے باخبر تھی۔ ایئر پورٹ پر ان کا خیر مقدم کرنے والوں میں گورنر جنرل کے ملٹری سیکریٹری لیفٹیننٹ کرنل جیفری نولز کے علاوہ اور کوئی بھی نہ تھا۔ انہیں ایمبولنس میں لے جایا گیا۔ لیکن کچھ دیرکے سفر کے بعد ایمبولنس کا پٹرول ختم ہوگیا۔ اور متبادل کوئی انتظام نہ تھا۔ادھر ایمبولینس میں شدید حبس کا عالم تھا۔ سانس لینا بھی دشوار ہو رہا تھا۔ اس بےچینی پر مستزاد وہ سینکڑوں مکھیاں تھیں جو جناح کے چہرے کے اردگرد منڈلا رہی تھیں اور ان میں انھیں اڑانے کی سکت نہ تھی۔ فاطمہ جناح اور سسٹر ڈنہم باری باری انھیں گتے کے ایک ٹکڑے سے پنکھا جھلتی رہیں۔ ہر لمحہ بڑی اذیت میں گزر رہا تھا۔ کرنل نولز اور ڈاکٹر مستری کو گئے ہوئے بڑی دیر ہوگئی تھی لیکن نہ فوجی ایمبولینس کا انجن درست ہوا اور نہ کوئی اور متبادل انتظام ہوسکا۔ ڈاکٹر الٰہی بخش اور ڈاکٹر ریاض بار بار اپنے قائد کی نبض دیکھتے تھے جو بتدریج ڈوب رہی تھی۔ بابائے قوم کو ایمبولینس سے کار میں منتقل کرنا بھی ممکن نہیں تا کیونکہ سٹریچر کار میں رکھا نہیں جاسکتا تھا اور خود جناح میں اتنی سکت نہیں تھی کہ وہ کار میں بیٹھ یا لیٹ سکتے۔ یہ تکلیف دہ سفر قائد نے اس کسمپرسی کے عالم میں کیا اس کی کبھی کسی سے بازپرس نہیں کی گئی۔ گورنر ہاؤس پہنچنے کے صرف 4 گھنٹے بعد قائد اللہ کو پیارے ہوگئے۔ڈاکٹر ریاض علی شاہ نے لکھا ہے کہ جناح کے آخری الفاظ ’اللہ۔۔۔ پاکستان‘ تھے۔ جبکہ فاطمہ جناح’مائی برادر‘ میں لکھتی ہیں: ’جناح نے دو گھنٹے کی پرسکون اور بے خلل نیند کے بعد اپنی آنکھیں کھولیں، سر اور آنکھوں سے مجھے اپنے قریب بلایا اور میرے ساتھ بات کرنے کی آخری کوشش کی۔ ان کے لبوں سے سرگوشی کے عالم میں نکلا: فاطی ۔۔۔ خدا حافظ ۔۔۔ لاالٰہ الاللہ محمد الرسول اللہ۔‘ پھر ان کا سر دائیں جانب کو آہستگی سے ڈھلک گیا اور ان کی آنکھیں بند ہوگئیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *