نیوزی لینڈ کو شکست، پاکستان 13 سال بعد ٹی20 ورلڈ کپ کے فائنل میں

آئی سی سی ٹی20 ورلڈ کپ کے پہلے سیمی فائنل میں پاکستان نے نیوزی لینڈ کو سات وکٹوں سے شکست دے کر فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا ہے۔
پاکستان نے 153 رنز کا ہدف 20 ویں اوور میں تین وکٹوں کے نقصان پر حاصل کیا۔ پاکستان کی جانب سے بابر اعظم اور محمد رضوان نے ٹیم کی جیت میں بنیادی کردار ادا کیا۔ دونوں نے بالترتیب 53 اور 57 رنز کی اننگز کھیلیں۔ نیوزی لینڈ کی جانب سے ٹرینٹ بولٹ نے دو وکٹیں حاصل کیں۔
بدھ کو سڈنی کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلے گئے میچ میں ٹاس جیت کر نیوزی لینڈ نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 20 اوورز میں چار وکٹوں کے نقصان پر 152 رنز بنائے۔ ڈیرل مچل 53 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے جبکہ کین ولیمسن نے 46 رنز بنائے۔ پاکستان کی جانب سے شاہین شاہ آفریدی نے دو وکٹیں حاصل کیں۔

پاکستان کی اننگز

153 رنز کے تعاقب میں پاکستان کی جانب سے بابر اعظم اور محمد رضوان میدان میں آئے۔ پہلے اوور میں ہی رضوان نے بتا دیا کہ آج وہ دفاعی نہیں بلکہ جارحانہ انداز میں کھیلیں گے۔ ٹرینٹ بولٹ کی چوتھی گیند پر وکٹ کیپر ڈیوڈ کونوے نے بابر اعظم کا کیچ چھوڑ دیا جو نیوزی لینڈ کو بہت مہنگا پڑا۔
اس کے بعد دونوں اوپنرز نے چوکوں کی برسات کر دی اور نیوزی لینڈ کی بولنگ کو دیوار سے لگا دیا۔ بابر اور رضوان کے درمیان ٹی20 انٹرنینشل کی نویں 100 رنز کی شراکت داری بنی۔ بابر اعظم نے 38 گیندوں پر سات چوکوں کی مدد سے اپنی نصف سینچری مکمل کی۔ وہ 42 گیندوں پر 53 رنز بنا کر ٹرینٹ بولٹ کی گیند پر کیچ آؤٹ ہوئے۔
بابر اعظم نے 38 گیندوں پر سات چوکوں کی مدد سے اپنی نصف سینچری مکمل کی (فوٹو: اے ایف پی)
ہدف کے قریب محمد رضوان بھی ٹرینٹ بولٹ کی ایک لو فل ٹاس پر باؤنڈری پر کیچ پکڑا بیٹھے۔ انہوں نے 43 گیندوں پر پانچ چوکوں کی مدد سے 57 رنز بنائے۔
اہم ترین میچ میں نیوزی لینڈ کی فیلڈنگ نہایت خراب رہی۔ اش سوڈھی نے محمد حارث کا کیچ ڈراپ کیا۔ حارث جو گذشتہ میچ میں بھی ہدف کے قریب آؤٹ ہوگئے تھے، اس میچ میں بھی جب جیت کے لیے صرف دو رنز درکار تھے تو انہوں نے مچل سینٹنر کی گیند پر ایک غیر ضروری شاٹ لگانے کی کوشش میں وکٹ گنوا دی۔
پاکستان کی جانب سے وننگ شاٹ شان مسعود نے کھیلا۔ وہ تین اور افتخار احمد صفر پر ناٹ آؤٹ رہے۔

نیوزی لینڈ کی اننگز

نیوزی لینڈ کی جانب سے فن ایلن اور ڈیون کونوے نے اننگز کا آغاز کیا۔ شاہین شاہ آفریدی کا پہلا اوور نہایت سنسنی خیز رہا۔ انہوں نے پہلی گیند اپنی روایتی ان سوئنگ کرنے کی کوشش کی جو اوور پچ ثابت ہوئی اور فن ایلن نے مڈ آن پر ایک شاندار چوکا لگا دیا۔ لیکن اگلی گیندوں پر انجری سے پہلے والے شاہین نظر آئے۔ ان کی دوسری بال فن ایلن کے بلے کو لگتی ہوئی پیڈز میں لگی اور پاکستان کی زوردار اپیل پر امپائر نے انگلی اٹھا دی۔ تاہم نیوزی لینڈ کے ریوو کے بعد امپائر کا فیصلہ واپس ہو گیا۔ اس سے اگلی گیند پر بھی فن ایلن حواس باختہ نظر آئے اور پیڈز پر دوبارہ بال لگنے کے بعد ایل بی ڈبلیو ہو کر پویلین لوٹ گئے۔
شاہین شاہ آفریدی نے اپنے پہلے اوور میں فن ایلن کو آؤٹ کیا۔ (فوٹو: اے ایف پی)
ابتدائی نقصان کے بعد نیوزی لینڈ کے بیٹرز نے محتاط بیٹنگ کی اور صرف اسی گیند پر ہٹ کی جو ان کے زون میں آئی۔ تاہم چھٹے اوور میں ڈیوڈ کونوے ایک رن لینے کی کوشش میں رن آؤٹ ہوگئی۔ انہوں نے 21 رنز بنائے۔
تیسرے آؤٹ ہونے والے کھلاڑی خطرناک بیٹر گِلن فلپس تھے۔ انہیں ایک موقع ملا جب محمد نواز انہیں رن آؤٹ کرنے میں ناکام رہے لیکن اپنے اسی اوور میں نواز نے انہیں صرف چھ رنز پر آؤٹ کر دیا۔
تین وکٹیں گرنے کے بعد ڈیرل مچل وکٹ پر آئے اور کین ولیمسن کے ساتھ سکور کو آگے بڑھایا۔ دونوں کے درمیان 68 رنز کی شراکت داری بنی اور انہوں نے کامیابی سے اپنی ٹیم کو دباؤ سے نکالا۔ نیوزی لینڈ کی جانب سے پہلا چھکا ولیمسن سے 13 ویں اوور میں محمد وسیم جونیئر کو لگایا۔ وہ 42 گیندوں پر 46 رنز بنا کر شاہین شاہ آفریدی کی گیند پر بولڈ ہوئے۔
نیوزی لینڈ کا پہلے 10 اوورز میں سکور 59 تھا لیکن اگلے 10 اوورز میں بلیک کیپس نے 93 رنز بنائے۔ ڈیرل مچل نے 35 گیندوں پر تین چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 53 ناٹ آؤٹ بنائے۔ جیمز نیشم بھی 16 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے۔
کین ولیمسن 46 رنز بنا کر شاہین شاہ آفریدی کی گیند پر بولڈ ہوئے (فوٹو: اے ایف پی)
 

’دباؤ ڈالنے کی کوشش کریں گے‘

ٹاس جیت کر نیوزی لینڈ کے کپتان کین ولیمسن نے کہا تھا کہ وکٹ پر گھاس نہیں ہے اور ہماری توجہ صرف کھیل اور کنڈیشنز پر ہے۔
گرین شرٹس کے کپتان بابر اعظم کا کہنا تھا کہ ’ٹاس ہمارے ہاتھ میں نہیں ہے اور ہم ان (نیوزی لینڈ) پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کریں گے۔ سہ ملکی سیریز سے ہمیں کافی اعتماد ملا، لیکن نیوزی لینڈ کے پاس اچھے کھلاڑی ہیں اور ہم صورت حال کے مطابق کرکٹ کھیلیں گے۔‘

Leave a Reply

Your email address will not be published.