چیونٹی کے چہرے کی واضح تصویر پہلی بار منظر عام پر آگئی

فائل فوٹو
فائل فوٹو

لتھوانیا کے ایک فوٹوگرافر نے چیونٹی کے چہرے کا شاندار کلوز اَپ شوٹ لینے پر نیکون فوٹوگرافی کا مقابلہ جیت لیا۔ 

وائلڈ لائف فوٹوگرافر یوجینئس کیولاسکس نے نیکون اسمال ورلڈ 2022ء کے فوٹومائیکروگرافی کے مقابلہ میں چیونٹی کے چہرے کی واضح اور شاندار تصویر پیش کی تھی۔

چیونٹی کے چہرے کی واضح تصویر پہلی بار منظر عام پر  آگئی
چیونٹی کے چہرے کی واضح تصویر پہلی بار منظر عام پر  آگئی

اس ٹیلنٹڈ فوٹو گرافر کی یہ تصویر بہترین 57 تصاویر میں سے منتخب کردہ ’امیجز آف ڈسٹنکشن‘ میں سے ایک تھی۔ 

چیونٹی کے چہرے کی یہ واضح تصویر ایک خوردبین کی مدد سے لی گئی، جس نے نیکون ایوارڈ جیتا ہے۔

مقابلے کا مقصد مائیکرو اسکوپک فوٹو گرافی کے ہنر کو ظاہر کرنا ہے اور مقابلے کے شرکاء کی حوصلہ افزائی کرنا ہے کہ وہ زمین پر موجود ایسی چیزوں کی غیر معمولی تفصیلات کو کیمرے سے ریکارڈ کریں جنہیں انسانی آنکھ محسوس نہیں کر سکتی۔

چیونٹی کی یہ تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے، جس پر بہت سے لوگوں نے چیونٹی کے چہرے کو ’شیطانی‘ اور بہت ہی خوفناک قرار دیا ہے۔

چیونٹی ایک عام معاشرتی مکوڑا ہے، جو تقریباً دنیا کے ہر حصے میں پائی جاتی ہے۔ یہ حشرات الارض کے خاندان سے تعلق رکھتی ہے، بھڑیں اور مکھیاں بھی اسی قبیل سے تعلق رکھتی ہیں۔ چیونٹیاں تقریباً ایک کروڑ دس لاکھ یا ایک کروڑ تیس لاکھ سال قبل بھڑ نما اجداد سے تعلق رکھتی ہیں اور آج ان کی 12،000 (بارہ ہزار) سے زائد اقسام موجود ہیں۔ ان کو ان کے سر پر لگے دو اینٹیناز اور مخصوص جسمانی ساخت کی بدولت بآسانی پہچاناجا سکتا ہے۔

چیونٹیاں انتہائی منظم بستیاں بناتی ہیں، جو حجم اور رقبے کے لحاظ سے کافی بڑی اور لاکھوں پر بھی محیط ہوسکتی ہے۔ جس میں بانجھ ماداؤوں کو ضرورت کے مطابق ذمہ داریاں تفویض کی جاتی ہیں، جس میں نگرانی سے لے کر مزدوری تک ہر طرح کے کام شامل ہے۔ تولیدی صلاحیت رکھنے والے نر اور مادہ کی بھی الگ الگ گروہ بندی کی جاتی ہے۔

ان میں بعض اقسام کی چیونٹیاں اپنے سے کئی گنا زیادہ وزن اٹھا سکتی ہیں۔ ان کی بعض نسلیں خود سے سو گنا زیادہ وزن اٹھانے کی سکت رکھتی ہیں۔ چیونٹیوں کا شمار دنیا کے مشقت کرنے والے مخلوقات میں ہوتا ہے۔ ان کی بعض نسلیں ایسی بھی موجود ہیں جن کی آنکھیں نہیں ہوتی۔ زیادہ تر چیونٹیاں پانی میں 20 سے 24 گھنٹے تک زندہ رہ سکتی ہیں۔ نیز کچھ چیونٹیاں ایسی بھی ہیں جن کو نئی نسل پیدا کرنے کے لیے نر کی ضرورت نہیں ہوتی۔ چیونٹیاں سونگنے کے لیے اپنے انٹینوں کا استعمال کرتی ہیں اور صفائی کا بھی خیال رکھتی ہیں۔ اچیونٹیوں کی کالونی ملکہ کے دم قدم سے ہی چلتی ہے اور ایک ملکہ کی عمر 30 سال تک طویل ہو سکتی ہے۔ اس کے برعکس مادہ ورکر چیونٹیاں ایک سے تین سال زندہ رہتی ہیں جبکہ نر چیونٹیوں کی عمر کچھ ہفتوں تک ہی ہوتی ہے[7]۔ ان کی پسندیدہ خوراک میٹھا ہے خاص کر شکّر۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.