روسی صدر پوتن کی طاقت اور یورپ کی کمزوری

یورپ روسی جوہری ایندھن پر کتنا انحصار کرتا ہے؟

مغربی ممالک فروری 2022 میں یوکرین پر روس کے حملے کے وقت سے ہی کوشش کر رہے ہیں کہ روس کے تیل اور گیس پر انحصار کو کم کیا جائے۔

یورپی یونین کا کہنا ہے کہ روس سے گیس کی برآمد ایک سال کے اندر اندر دو تہائی تک کم کر دی جائے گی لیکن مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔

روس عالمی گیس منڈی کا ایک اہم کھلاڑی ہے۔ سنہ 2021 میں روس نے یورپ کو 45 فیصد گیس فراہم کی تھی۔ یورینیئم کے معاملے میں اس کا کردار قدرے محدود ہے۔ سنہ 2019 میں روس نے دنیا کا صرف آٹھ فیصد یورینیئم پیدا کیا۔

تاہم یورینیئم مائننگ جوہری ایندھن کی پیداوار کی جانب صرف پہلا قدم ہوتا ہے۔

امریکہ کی کولمبیا یونیورسٹی میں ریسرچ سکالر ڈاکٹر میٹ بووین کا کہنا ہے کہ ’دراصل یہ جوہری ایندھن کی پیداوار کے اگلے دو اہم مراحل ہیں جن کی وجہ سے روس بین الاقوامی منڈی میں اہمیت رکھتا ہے۔‘

جوہری ایندھن تیار کرنے کے لیے خام یورینیئم زمین سے نکالنی ہوتی ہے اور اسے یورینیئم آکسائیڈ سے ملایا جاتا ہے جس کے بعد اسے یورینیئم ہیکزا فلورائیڈ میں تبدیل کیا جاتا ہے اور آخری مرحلے میں یورینیئم راڈ تیار ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر میٹ بووین نے اپنی ایک تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ عالمی طور پر یورینیئم کی اس تبدیلی میں 2020 میں روس کا 40 فیصد حصہ تھا اور 2018 میں 46 فیصد۔

تاہم روس صرف جوہری ایندھن ہی برآمد نہیں کر رہا۔ روساٹوم دنیا میں جوہری ری ایکٹرز بنانے والا سب سے بڑا ملک ہے۔

سنہ 2021 میں روسی سرکاری جوہری ایجنسی بنگلہ دیش سے ترکی تک ایک درجن سے زیادہ ری ایکٹرز تیار کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی تھی۔

ڈاکٹر میٹ بووین کا کہنا ہے کہ ’مغرب کو روس کی اس حد تک عالمی جوہری میدان میں سرگرمی کو کم کرنے کی ضرورت ہے لیکن اس کے لیے پیسہ اور وقت صرف کرنا ہو گا۔‘

یورپ میں سوویت طرز کے جوہری ری ایکٹرز

Paks nuclear power plant in 1990
،تصویر کا کیپشنہنگری کا پاور پلانٹ

مغرب کے لیے روسی کردار کو محدود کرنا اس لیے بھی مشکل ہو گا کیوں کہ متعدد ری ایکٹرز روسی ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہے ہیں۔

صرف یورپ میں 2021 میں 30 سے زیادہ ری ایکٹرز روسی ساختہ وی وی ای آر تھے۔ وی وی ای آر واٹر-واٹر انرجیٹک ری ایکٹر کا مخفف ہے۔ ان میں سے بیشتر روسی جوہری ایندھن پر چلتے ہیں۔

یوکرین کے زاپوریژیا نیوکلیئر پلانٹ، جو اب روس کے کنٹرول میں ہے، میں تقریبا چھ وی وی ای آر ری ایکٹرز ہیں۔

ماہر ماحولیاتی اُمور ولادیمیر سلویاک کو روس سے اس وقت فرار ہونا پڑا تھا جب ان کی تنظیم ’ایکو ڈیفنس‘ کو سنہ 2014 میں ’غیر ملکی ایجنٹ‘ قرار دے دیا گیا تھا۔ اس کے باوجود انھوں نے روسی جوہری ایندھن پر پابندیاں لگوانے کے لیے اپنی کوششوں میں کمی نہیں آنے دی۔

اب وہ جرمنی سے روس کی سرکاری جوہری ایجنسی روساٹوم کے خلاف اپنی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’یورپ میں کوئی بھی اس طرف نہیں دیکھنا چاہتا۔‘

ولادیمیر سلویاک کو یہ بات کافی عجیب لگتی ہے کہ ایک جانب روسی توانائی کے ذرائع مغربی سیاست دانوں اور میڈیا کے لیے بڑی پریشانی کا سبب ہیں تو دوسری طرف روسی جوہری ایندھن اور ٹیکنالوجی پر جاری انحصار کی پالیسی پر کوئی بات کرنے کو تیار نہیں۔

وہ سوال کرتے ہیں کہ آخر روسی جوہری ایندھن پر اس طرح پابندی کیوں نہیں لگائی جاتی جیسے تیل یا کوئلے پر لگائی گئی۔

جوہری انحصار

Ecodefense protesting against arrival of Russian uranium into German factory in Lingen, September 2022

ولادیمیر سلویاک نے آخری بار جس مظاہرے میں شرکت کی تھی، وہ لنجن شہر میں ایک جوہری ایندھن فیکٹری کے باہر کیا گیا تھا جہاں روسی یورینیئم پہنچایا جا رہا تھا۔

مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ جرمن حکومت روس کے ساتھ جوہری معاہدہ فوری طور پر ختم کرے۔ تاہم ان کے احتجاج کا کوئی اثر نہیں ہوا۔

جرمنی کی وزارت ماحولیات اور جوہری حفاظت کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ ’روسی گیس کے برخلاف روس سے جوہری ایندھن کی برآمد پر یورپی یونین کی جانب سے کوئی پابندی نہیں اور اسی لیے یہ تجارت ممکن ہے۔‘

واضح رہے کہ یورپی یونین نے 2030 تک روس کے ایندھن پر انحصار ختم کرنے کا اعلان کیا ہے جس کا آغاز گیس سے کیا جائے گا تاہم اب تک یورپی یونین نے صرف روسی کوئلے اور تیل پر پابندی عائد کی ہے، گیس اور جوہری ایندھن پر نہیں۔

ولادیمیر سلویاک اس صورتحال کو بدلنے کی کوشش کرنے والے اکیلے شخص نہیں ہیں۔

تقریبا 1800 کلومیٹر دور، یوکرین کے دارالحکومت کیئو میں، نتالیا لٹون انرجی ٹرانزیشن کوالیشن نامی ماحولیاتی تنظیم کی کوآرڈینیٹر ہیں۔ اُن کی تنظیم یورپی اور امریکی حکام سمیت بین الاقوامی اٹامک انرجی ایجنسی اور روسی سرکاری روساٹوم کے ساتھ تعلق رکھنے والی نجی کمپنیوں کو قائل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

اُن کا کہنا ہے کہ ’ہم اس بات کو سمجھتے ہیں کہ رہنما روس سے فوسل فیول کی برآمد روکنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ہم جوہری ایندھن کے بارے میں یہ بات نہیں کہہ سکتے۔‘

Leave a Reply

Your email address will not be published.