ملکہ الزبتھ دوم کو الوداعی تقریب کے بعد شہزادہ فلپ کے ساتھ سپرد خاک کر دیا گیا

 ملکہ الزبتھ کی میت کا تابوت تین دہائیوں قبل تیار کیا گیا تھا۔

الزبتھ دوم کے تابوت کی خاص بات کیا ہے، یہاں آپ کو تفصیل سے بتاتے ہیں۔

ملکہ الزبتھ کا تابوت کم از کم 32 برس پہلے بلوط کے درخت کی لکڑی سے تیار کیا گیا تھا، بلوط کا یہ درخت برطانیہ کے مشہور ترین درختوں میں سے ایک ہے، یہ لکڑی آج کل بہت نایاب ہے جبکہ برطانیہ میں زیادہ تر تابوت امریکی بلوط کی لکڑی سے بنائے جاتے ہیں۔

برطانیہ کی شاہی روایات کے مطابق تابوت کو سیسہ سے تراشہ گیا جس کی بدولت تابوت کو دفنانے کے بعد لاش زیادہ دیر تک محفوظ رہتی ہے۔سیسے کی مدد سے بنایا گیا تابوت، نمی اور ہوا کو اندر جانے سے روکتا ہے لیکن سیسے کی موجودگی کی وجہ سے تابوت کے وزن میں اضافہ ہوجاتا ہے۔

الزبتھ دوم جیسا ہی ایک تابوت ملکہ الزبتھ کے شوہر شہزادہ فلپ کے لیے بھی بنایا گیا تھا، یاد رہے کہ شہزادہ فلپ سال 2021 میں انتقال کر گئے تھے۔

لیورٹن اینڈ سنز 1991 سے شاہی خاندان کے لیے کفن بنانے کا کام کر رہے ہیں، انہوں نے بتایا کہ ملکہ کو یہ تابوت وراثت میں ملے تھے، انہیں یاد نہیں کہ یہ تابوت کن لوگوں نے تیار کیے تھے۔

اینڈریو لیورٹن نے بتایا کہ ’یہ تابوت بلوط کے درخت کی لکڑی سے بنائے گئے ہیں، جو کافی مشکل کام ہے، مجھے نہیں لگتا کہ اب ہم بلوط کے درخت کی لکڑی کو تابوت کے لیے استعمال کر سکتے ہیں، کیونکہ یہ لکڑی اب بہت مہنگی ہوچکی ہے‘۔

تابوت کو خاص طور پر اس طرح ڈیزائن کیا گیا کہ اس کے ڈھکن پر قیمتی سامان محفوظ رہ سکے۔ تابوت پر پیتل کے ہینڈل بھی شاہی خاندان کے لیے منفرد انداز میں بنائے گئے ہیں، یہ ہینڈل برمنگھم کی ایک کمپنی کی جانب سے بنائے گئے تھے۔

لیورٹن کا کہنا تھا کہ ’شاہی تابوت کوئی ایسی چیز نہیں جسے آپ ایک ہی دن میں تیار کرلیں‘۔

برطانیہ پر 70 برس تک حکمرانی کرنے والی ملکہ الزبتھ دوم کی آخری رسومات پیر کو سرکاری تدفین اور فوجی جلوس کے ساتھ ادا کی گئی ہیں۔

تدفین کی نجی تقریب کے بعد ملکہ کو سینٹ جارج چیپل ونڈزر میں ان کے شوہر شہزادہ فلپ کے ساتھ سپرد خاک کر دیا گیا۔ یہ ان کے والد بادشاہ جارج ششم، ان کی ماں مادر ملکہ اور بہن شہزادی مارگریٹ کی بھی آخری آرام گاہ ہے۔

صبح ان کی میت ویسٹ منسٹر ایبی میں دعائیہ تقریب کے بعد ونڈزر کاسل لے جائی گئی جہاں سینٹ جارج چیپل میں تابوت رائل والٹ میں اتار دیا گیا۔ ویسٹ منسٹر ایبی میں ایک الوداعی تقریب میں شاہ چارلس سوم اور برطانوی شاہی خاندان کے علاوہ عالمی رہنما اور دیگر ممالک کے شاہی خاندانوں کے افراد شامل تھے۔

سڑکوں پر ہزاروں لوگ جمع تھے جب ملکہ کے تابوت کو ونڈزر میں ان کی آخری آرام گاہ لے جایا جا رہا تھا۔

یہ ایک سرکاری تدفین تھی، جو عام طور پر بادشاہوں اور ملکاؤں کے لیے مخصوص ہوتی ہے، اور اس میں فوجی جلوس اور آخری دیدار جیسی رسومات شامل تھیں۔ یہ جذبات اور شاہی شان و شوکت سے بھرپور تقریب کا دن تھا جس کا آخری مظاہرہ 60 سال قبل برطانوی وزیر اعظم ونسٹن چرچل کے ریاستی جنازے میں ہوا تھا۔

لکہ الزبتھ کی آخری رسومات کا آغاز برطانوی وقت کے مطابق دن گیارہ بجے ویسٹ منسٹر ایبی میں دو ہزار افراد کے مجمعے کے سامنے دعائیہ تقریب سے ہوا جبکہ اس موقع پر لندن کے مرکزی علاقے میں ہزاروں شہری بھی موجود تھے۔

اس تقریب کے بعد ملکہ کا تابوت ویسٹ منسٹر ایبی سے لندن کے ہائیڈ پارک کارنر میں واقع ولنگٹن آرچ لے جایا گیا جہاں سے اسے ونڈزر کاسل منتقل کیا گیا اور وہاں کے گرجا گھر سینٹ جارج چیپل میں دعا کے بعد اسے رائل والٹ میں اتار دیا گیا۔

برطانیہ پر سب سے طویل عرصے تک حکمرانی کرنے والی ملکہ الزبتھ دوم 96 برس کی عمر میں آٹھ ستمبر کو بیلمورل میں وفات پا گئی تھیں۔ انھوں نے 70 سال تک برطانیہ پر حکمرانی کی۔

بدھ سے ملکہ الزبتھ کی میت کو ویسٹ منسٹر ہال میں رکھا گیا تھا اور پیر کی صبح تک لاکھوں افراد نے ملکہ کی میت کے سامنے حاضری دے کر انھیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔

بکنگھم پیلس کے مطابق ملکہ الزبتھ دوم نے اپنے ریاستی جنازے کی منصوبہ بندی میں خود بھی حصہ لیا تھا اور چند تبدیلیاں کی تھیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.