صدر ٹرمپ نے اسرائیل فلسطین تنازع کے حل کا منصوبہ پیش کر دیا

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو اسرائیل فلسطین تنازع حل کرنے کے لیے اپنے منصوبے کا اعلان کر دیا ہے۔ اسرائیلی رہنماؤں نے اس کا خیرمقدم کیا ہے جبکہ فلسطینی رہنماؤں نے اسے مسترد کر دیا ہے۔

صدر ٹرمپ کے اس منصوبے میں فلسطینی ریاست کے قیام پر زور دیا گیا ہے جو فلسطینی رہنماؤں کا کلیدی مطالبہ رہا ہے اور وہ طویل عرصے سے ‘دو ریاستی حل’ پر زور دیتے آئے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں اپنے اعلان کو ’’غیر معمولی اور اہم پیش رفت‘‘ قرار دیا۔ ٹرمپ انتظامیہ کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ منصوبے میں فلسطین کے زیر انتظام علاقے میں بہت اضافہ کیا گیا ہے، لیکن اس میں مغربی کنارے کی بڑی بستیوں پر اسرائیلی اقتدار کو بھی تسلیم کیا گیا ہے۔

وائٹ ہاؤس میں منعقد ہونے والی یہ تقریب تینوں فریقین کے درمیان تعلقات سے متعلق ایک علامتی اہمیت کی حامل تھی، جس میں اسرائیلی وزیر اعظم بنیا مین نیتن یاہو امریکی صدر کے ہمراہ موجود تھے، جب کہ فلسطینی رہنماؤں نے کہا ہے کہ انہیں اس تقریب میں مدعو نہیں کیا گیا۔

صدر ٹرمپ کے مجوزہ امن معاہدے کے تحت یروشلم اسرائیل کا دارالحکومت ہو گا اور ابو دس فلسطین کا دارالخلافہ کہلائے گا اور دونوں کے درمیان کھڑی کی گئی رکاوٹوں کو سرحد کا درجہ حاصل ہو گا۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مجوزہ امن معاہدے کو تاریخی قرار دیا جب کہ فلسطینی صدر محمود عباس نے اس معاہدے کو تاریخ پر طمانچہ قرار دیا ہے۔

فلسطینیوں نے کسی بھی ایسی تجویز کو مسترد کردیا جس میں پورے مشرقی یروشلم میں فلسطینی دارالحکومت کا تصور شامل نہ ہو۔ ​

منصوبے کے اعلان سے قبل صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو سے ملاقات کی اور فلسطینیوں کی تشویش کو اہمیت نہیں دی۔ فلسطینی امریکی صدر کے مؤقف کو اسرائیل نواز پالیسیاں قرار دیتے ہیں۔

ذرائع

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *