بریگزٹ کا نظرِ ثانی شدہ معاہدہ بھی مسترد

brexit-rejected-again-32019

برطانوی پارلیمان نے برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی سے متعلق وزیرِ اعظم تھریسا مے کا تجویز کردہ نظرِ ثانی شدہ معاہدہ بھی بھاری اکثریت سے مسترد کردیا ہے۔

وزیرِ اعظم مے کی حکومت نے منگل کو بریگزٹ معاہدہ پارلیمان کے ایوانِ زیریں میں پیش کیا تھا جسے ارکان نے 242 کے مقابلے میں391 ووٹوں سے مسترد کردیا۔

وزیرِ اعظم نے معاہدے کو پارلیمان میں پیش کرنے سے ایک روز قبل پیر کو فرانس کے شہر اسٹراس برگ کا ہنگامی دورہ کیا تھا جہاں وہ یورپی قائدین سے مذاکرات کے بعد معاہدے کی بعض متنازع شقوں پر نظرِ ثانی کی یقین دہانی حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی تھیں۔

لیکن ان کی یہ کامیابی اور یورپی یونین کی جانب سے معاہدے پر نظرِ ثانی کی یقین دہانی بھی برطانوی ارکانِ پارلیمان کو قائل نہ کرسکی۔

پارلیمان نے نظرِ ثانی شدہ معاہدہ ایسے وقت مسترد کیا ہے جب برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی کی ڈیڈلائن میں صرف 16 دن رہ گئے ہیں۔

برطانوی پارلیمان کی جانب سے معاہدہ مسترد کیے جانے کے بعد ‘بریگزٹ’ کا معاملہ انتہائی غیر یقینی کا شکار ہوگیا ہے۔

برطانوی پارلیمان کے پاس اب دو ہی راستے رہ گئے ہیں: یا تو وہ تھریسا مے کی حکومت کو بغیر کسی معاہدے کے یورپی یونین سے علیحدگی کا اختیار دے دے یا علیحدگی کو مؤخر کردے۔

تفصیلات

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *