امریکہ کا بھارت اور ترکی سے ترجیحی تجارت ختم کرنے کا عندیہ

trump-withdraws-mfn-india-turkey-2019

امریکی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر واشنگٹن، بھارت اور ترکی کو ترجیحی تجارتی ممالک کی حییثت کو ختم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

امریکہ کے تجارت سے متعلق دفتر کے نمائندے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ واشنگٹن جرنلائزڈ سٹم آف پریفرینسز (جی پی ایس) یعنی عمومی ترجیحات کے نظام، کے تحت بھارت اور ترکی کو دی گئی ترجیحی تجارتی حیثیت کو ختم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے کیونکہ وہ اس حیثیت کے لیے ضروری معیار پر پورا نہیں اترتے۔ “

بیان کے مطابق بھارت یہ یقین دہانی کروانے میں ناکام رہا ہے کہ وہ امریکہ کو اپنی مارکیٹ تک درکار رسائی دے گا جبکہ ترکی اب کافی حدتک اقتصادی طور پر ایک ترقی یافتہ ملک ہے۔

امریکہ کے ‘جی ایس پی’ پروگرام کے تحت بعض ممالک سے متعدد مصنوعات بغیر کسی محصولات کے امریکی منڈیوں میں آ سکتی ہیں اگر یہ ممالک اس کے درکار طریقہ کار پر عمل کرتے ہیں جن میں امریکہ کو اپنی مارکیٹ تک مناسب اور مساوی رسائی دینا بھی شامل ہے۔

امریکی نمائندے کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ بھارت نے” کئی تجارتی رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں جن کی وجہ سے امریکہ کی تجارت پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔ “

خبر رساں ادارے روئٹر ز کے مطابق صدر ٹرمپ نے متعدد بار امریکی کے تجارتی خسارے کو کم کرنے کے عزم کا اعادہ کر چکے ہیں اور انہوں نے متعدد بار بھارت پر امریکی مصنوعات پر بھارتی محصولات کو بلند شرح کو کم کرنے زور دے چکے ہیں۔ امریکی عہدیداروں کا کہنا ہے کانگرس اور بھارت کی حکومت کی آگاہ کرنے کے بعد بھارتی کو دی گئی تجارتی ترجیحات کو ختم کرنے کے لیے کم ازکم 60 روز درکار ہیں۔

ٹرمپ نے کانگرس کو ایک خط میں آگاہ کیا ہے ” میں یہ اقدام اس لیے کر رہا ہوں کہ امریکہ اوربھارت کے درمیان ہونے والی بات چیت کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ بھارت نے امریکہ کو یہ یقین دھانی نہیں کروائی ہے کہ وہ اپنی مارکیٹ تک منصافانہ اور مناسب رسائی دے گا۔

تفصیلات

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *