بھارت کیخلاف اس بار فوجی ردعمل مختلف قسم کا ہوگا، ترجمان پاک فوج

dgispr-press-briefing-india-pakstan-recent-tension-23022019

ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ جب بھی پاکستان میں حالات سازگار ہو تو بھارت اسے خراب کرنے کی کوشش کرتا ہے تاہم اگر جنگ مسلط کی گئی تو پہلا ردعمل اپنا دفاع ہوگا اور اس بار فوجی ردعمل مختلف قسم کا ہوگا۔

راولپنڈی میں پریس بریفنگ دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے واقعے کے فوری بعد بھارت نے پاکستان پر الزامات کی بارش کردی لیکن پاکستان کی جانب سے پلوامہ واقعے کا جواب فوراً نہیں دیا گیا بلکہ ہم نے اس بار جواب دینے کے لیے تھوڑا سا وقت لیا جس کا مقصد بھارت کی جانب سے لگائے گئے بے بنیاد الزامات کی اپنے طور پر تحقیق کرنا تھا اور وہ کرنے کے بعد وزیراعظم پاکستان نے بھارت کو جواب دیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ جب بھی پاکستان میں کوئی اہم وقت ہو یا ملک میں استحکام ہو تو بھارت یا پھر مقبوضہ کشمیر میں کوئی نہ کوئی واقعہ ہوجاتا ہے۔  ممبئی حملے کے وقت بھی بھارت میں عام انتخابات ہونے تھے، 2008 میں ہم دہشت گردی کے خلاف بھرپور جنگ لڑرہے تھے اور بھرپور کامیابیاں مل رہی تھیں کہ بھارت اپنی فوجیں سرحد پر لے آیا، 2 جنوری 2016 میں پٹھان کوٹ کا واقعہ ہوا۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ پلوامہ واقعے کے وقت بھی پاکستان میں 8 اہم ایونٹس ہونا تھے، سعودی ولی عہد کا پاکستان کا دورہ تھا، پاکستان میں انویسٹمنٹ سے متعلق کانفرنس ہورہی تھی، افغانستان میں امن عمل کا سلسلہ چل رہا تھا، یورپی یونین کی تنظیم نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کرنا تھی، عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن کا کیس چل رہا تھا، کرتارپو ربارڈر پر دونوں ملکوں میں ملاقات ہونا تھی، ایف اے ٹی ایف کی رپورٹ پر ڈسکشن ہونی تھی اور ایک اہم فیصلہ ہونا تھا ، پاکستان سپر لیگ بھی ہورہی ہے جس کے کچھ میچز پاکستان میں بھی ہونا ہیں اور سب سے اہم یہ کہ بھارت میں بھی آج کل الیکشن کا سیزن چل رہا ہے۔

مزید تفصیلات

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *