یورپ میں میزائل نصب کیے تو امریکہ کو نشانہ بنائیں گے

putin-state-of-the-nation-2019-21022019

پوٹن کا کہنا تھا کہ ’’امریکہ نے براہ راست اور انتہائی سفاک انداز میں اُس معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے‘‘ اور ’’اُس نے رومانیہ میں بیلسٹک میزائیلوں کا ایک نظام نصب کر رکھا ہے، جس کے ذریعے وہ درمیانے فاصلے کے ٹوماہاک میزائل داغ سکتا ہے‘‘

روسی صدر ولادی میر پوٹن نے کہا ہے کہ اگر امریکہ نے یورپ میں درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے جوہری میزائل نصب کئے تو روس نا صرف متعلقہ یورپی ممالک بلکہ امریکہ کو بھی اپنے انتہائی جدید اور تیز رفتار ہائپر سونک میزائلوں سے نشانہ بنائے گا۔

پوٹن نے بدھ کے روز ماسکو میں اپنے 15 ویں سٹیٹ آف دی نیشن خطاب میں امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ روسی میزائلوں کی رینج اور رفتار پر نظر ڈالتے ہوئے ایسے اقدام سے پیدا ہونے والے خطرات کو بھی ذہن میں رکھے۔

پوٹن کا کہنا تھا کہ اگر امریکہ نے یورپ میں مذکورہ میزائل نصب کئے تو روس اُن ملکوں کو نشانہ بنانے میں دیر نہیں کرے گا، جہاں یہ میزائل نصب کئے جائیں گے اور اس کے ساتھ ساتھ اُس ملک کو بھی اپنا ہدف بنانے سے نہیں ہچکچائے گا جہاں ان کی تنصیب کا فیصلہ کیا گیا ہو۔

روسی صدر نے اس امریکی مؤقف کو بھی مسترد کر دیا کہ واشنگٹن کی طرف سے امریکہ روس جوہری ہتھیاروں کے معاہدے سے نکل جانے کا فیصلہ روس کی طرف سے معاہدے کی خلاف ورزی کے باعث کیا گیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ایسے الزامات محض امریکہ کی طرف سے معاہدہ منسوخ کرنے کے جواز کے طور پر لگائے جا رہے ہیں۔

مزید تفصیلات

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *