وائٹ ہاؤس نے سعودی عرب کو جوہری پلانٹس دینے کی کوشش کی، کانگریس کمیٹی

usa-saudia-nuclear-21022019

امریکی کانگریس کی ایک رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ امریکی کانگریس کو نظر انداز کر کے سعودی عرب کو جوہری پاور پلانٹس کی فروخت کی کوشش کر رہی ہے اور ایک ایسے سعودی جوہری معاہدے کو آگے بڑھا رہی ہےجس سے جیرڈ کشنر سے منسلک ایک کمپنی کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

ڈیمو کریٹ قیادت کے ایوان کی نگرانی اور اصلاحات کی کمیٹی نے سعودی عرب میں درجنوں جوہری ری ایکٹرز کی تعمیر کی تجویز کے حوالے سے وائٹ ہاؤس پر غیرمعمولی اقدامات کا الزام عائد کیا ہے۔

منگل کے روز کمیٹی نے ان الزامات پر ایک تفتیشی کارروائی کا آغاز کیا جس میں اس بارے میں خدشات شامل تھے کہ آیا وائٹ ہاؤس کے عہدے داروں نے ٹرمپ انتظامیہ کے ابتدائی مہینوں میں سعودی عرب کے ساتھ کسی ایسے معاہدے کی کوشش کی تھی جس سے امریکی صدر کے قریبی حامیوں کو فائدہ پہنچ سکتا تھا۔

رپورٹ کے مطابق اس جوہری کوشش کو قومی سلامتی کے سابق مشیر مائیکل فلن نے آگے بڑھایا تھا جنہیں2017 میں برطرف کر دیا گیا تھا اور وہ روس کے بارے میں ایک چھان بین میں ایف بی آئی سے جھوٹ بولنے کی بنا پر سزا کا انتظار کر رہے ہیں۔ فلن کے لائے ہوئے قومی سلامتی کونسل کے ایک عہدے دار ڈیرک ہاروے نے اس مجوزہ منصوبےپر کام جاری رکھا جو بدستور ٹرمپ انتظامیہ کے زیر غور رہا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کو جوہری ٹکنالوجی کی فروخت کی کوشش ٹیکنالوجی کی منتقلی کے تحفظ سے متعلق ایک امریکی قانون کی خلاف ورزی ہے۔

سعودی عرب کو مجوزہ فروخت کی خبر پر سیکورٹی سے متعلق تجزیہ کاروں نے تشویش کا اظہار کیا ہے جنہوں نے کہا کہ امریکہ کی حساس جوہری ٹیکنالوجی کی منتقلی سعودی سلطنت میں جوہری ہتھیار تیار کرنے کا راستہ ہموار کر سکتی ہے۔

مزید تفصیلات

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *