امریکہ نے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر لیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیت المقدس یعنی یروشلم کواسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

امریکی صدر نے ساتھ ہی اپنے ملک کے سفارت خانے کو تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے کی ہدایات بھی جاری کردیں ہیں۔

اس موقع پر صحافیوں کے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ بیت المقدس کو دارالحکومت تسلیم کرنے کا وقت آ گیا ہے۔

دوسری جانب امریکہ اس فیصلہ پر مسلمان ممالک نے کڑی تنقید کی ہے۔ اس اہم مسئلہ پر مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے کے لیے فلسطین اور اردن نے او آئی سی کا اجلاس طلب کرنے کی درخواست کر دی ہے۔ ترکی کے صدر طیب اردگان نے یہ اجلاس استنبول میں 13 دسمبر کر بلانے کا اعلان کر دیا ہے۔

اسرائیل نے 1967 کی عرب اسرائیل جنگ میں بیت المقدس پر قبضہ کیا تھا۔ اس سے پہلے بیت المقدس اردن کے زیر انتظام تھا۔ 

صدر ٹرمپ کی جانب سے اس اعلان کے بعد فلسطین میں احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے جس میں امریکہ پرچم کو نظر آتش کیا گیا۔  فلسطینی تنظیم حماس نے کہا ہے کہ  امریکہ کے اس اقدام سے خطے میں امریکہ مفادات کے لیے جہنم کے دورازے کھول دئیے ہیں۔

کئی مسلمان ممالک نے امریکہ کے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت بنانے کے فصیلہ پر سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ سعودی عرب نے اس امریکہ فیصلہ کو غیر ذمہ دارانہ اور ناانصافی قرار دیا ہے جبکہ ایران نے کہا ہے کہ یہ امریکہ فیصلہ ایک نئے انتفادہ کو جنم دے گا۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*