پوپ کا دورہ میانمار پر مسلمانوں کے تذکرے سے گریز

 پوپ فرانسیس کے دورہ میانمار سے یہ عام توقع تھی کہ پوپ روہنگیا مسلمان اقلیت پر ہونے والے مظالم کر تذکرہ کریں گے لیکن اس کے برعکس پوپ نے براہ راست لفظ روہنگیا کے استعمال سے اجتناب کیا۔

میانمار میں سفارت کاروں اور ملک کی اہم شخصیات کے خطاب کرتے ہوئے پوپ فرانسیس نے کہا کہ ضروری نہیں کہ مذہبی اختلافات تقسیم یا بداعتمادی کی وجہ بنیں، بلکہ وحدت، درگزر، برداشت اور دانشمندانہ تعمیرِ وطن کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ میانمار کا مستقبل امن، انسانی حرمت کی بنیاد پر امن کو فروغ دیتے اور معاشرے کے ہر رکن کے حقوق، ہر نسلی گروپ اور اُس کی شناخت کی حرمت کے تقاضوں کا خیال برتنے، قانون کی حکمرانی کی عزت، اور جمہوری عمل درای کو سربلند رکھنا چاہیئے، تاکہ ہر فرد اور ہر گروہ، جس میں سبھی شامل ہیں، ساروں کے مفاد کے لیے سودمند ثابت ہو۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*