جج کی پاکستانی فوج پر شدید تنقید

justiceshaukatazizcriticisingpakarmy

گذشتہ کچھ ہفتوں سے اسلام آباد میں جاری  مذہبی جماعتوں کا دھرنا ختم ہو گیا ہے۔

ہائی کورٹ کے جج شوکت عزیز صدیقی نے اس معاملہ پر کیس کو سنتے ہوئے پاکستان آرمی پر شدید تنقید کی۔ 

انھوں نے کہا کہ فوج کون ہوتی ہے ثالثی کا کردار ادا کرنے والی، کیا فوج اقوامِ متحدہ ہے جو ثالثی کروا رہی ہے۔

جسٹس شوکت صدیقی نے یہ سوال اٹھایا کہ کیا پاکستانی قانون میں ایک میجر جنرل کو ثالث بنانے کا اختیار کہاں دیا گیا ہے۔ انھوں نے فوج پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جس بندے کا کورٹ مارشل ہونا چاہیے تھا اسے ثالث بنا دیا گیا۔

انہوں پاکستانی فوج کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ فوج اپنی آئینی حدود میں رہے۔ اب عدلیہ میں جسٹس منیر کے پیروکار نہیں ہیں اور جن فوجیوں کو سیاست کا شوق ہے وہ حکومت کی دی ہوئی بندوق واپس کرکے ریٹائرڈ ہوجائیں اور سیاست کا شوق پورا کرلیں۔

جسٹس شوکت صدیقی نے آئی بی کو ہدایت جاری کرتے ہوئے فیض آباد آپریشن کی ناکامی کی رپورٹ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا اور ساتھ ہی  دھرنے سے متعلق سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی آڈیو کے بارے میں بھی عدالت کو آگاہ کرنے کا کہا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *